مسئلہ کشمیر کا تاریخی پس منظر

چوہدری عامر سیال

اٹھارویں صدی اور انیسویں صدی کے ابتدائی سالوں میں جب مغل سلطنت کا شیرازہ بکھر رہا تھا اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے برٹش ایمپائر ہندوستان میں اپنے پنجے گاڑ رہی تھی اس وقت کشمیر میں درانی پٹھان خاندان کی حکومت رہی۔ (درانی سلطنت کا دارالخلافہ افغانستان کا شہر کابل تھا یعنی اس وقت جموں وکشمیر مغل سلطنت کا حصہ نہیں تھا)

1819 میں سکھ حکمران رنجیت سنگھ (جو اسوقت پنجاب کاحکمران تھا اور لاہور اس کا دارالخلافہ تھا) نے درانی خاندان سے جنگ کے بعد کشمیر پر قبضہ کر لیا۔ رنجیت سنگھ دس سال کی عمر میں small pox کا شکار ہو گیا تھا، اس کی زندگی تو بچ گئی لیکن اس کا چہرہ داغ دار ہو گیا اور ایک آنکھ بھی ضائع ہو گئی اس لیے ہمارے لوگ رنجیت سنگھ کو رنجیت سنگھ “کانا” کے نام سے بھی پکارتے ہیں، جب رنجیت سنگھ نے کشمیر پر قبضہ کیا اس وقت عملاّّ ہندوستان انگریز کے زیر تسلط آ چکا تھا لیکن 1806) سے)مہاراجہ رنجیت سنگھ اور ایسٹ انڈیا کمپنی میں ایک معاہدہ تھا کہ سکھ افواج برٹش ایمپائر کے زیر قبضہ علاقوں پر حملہ نہیں کریں گے اور برٹش افواج رنجیت سنگھ کے زیر قبضہ علاقوں پر حملہ آور نہیں ہونگے، 1839 میں رنجیت سنگھ کے مرنے کے بعد سکھ حکومت کمزور ہو گئی اور سکھوں اور ایسٹ اندیا کمپنی میں معاہدہ بھی ختم ہوگیا،

1845-1846 میں انگریزوں اور سکھوں میں جنگ ہوئی اور سکھوں کی شکست کے بعد کشمیر پر انگریز کا قبضہ ہو گیا۔انگریزوں نے کشمیر 70 لاکھ روپے (سکہ نانک شاہی) کے عوض ایک ہندو زمیندار گلاب سنگھ کو دے دیا ۔ ہمارے ہاں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ انگریز نے کشمیر 70 لاکھ روپے لے کر بیچ دیا تھا، انگریز نے کشمیر کو اس وقت کے کشمیر کے ہندو ڈوگرہ گلاب سنگھ کو 70 لاکھ نانک شاہی روپوں کے عوض ایک معاہدہ کے تحت سونپا ہوا تھا جس کے تحت گلاب سنگھ “برٹش ایمپائر کے زیرسایہ” کشمیر پر حکومت کرتا تھا اور مہاراجہ جموں و کشمیر کہلاتا تھا، مہاراجہ گلاب سنگھ کا خاندان ہندوستان کی تقسیم تک (1846 سے 1947 تک تقریباّّ 101 سال) ریاست جموں اور کشمیر پر حکمران رہا -( گلاب سنگھ کے نام سے یہ کنفیوژن پیدا ہوتی ہے کہ رنجیت سنگھ کی طرح وہ بھی سکھ تھا لیکن درحقیقت وہ ایک ہندو راجپوت تھا۔ سنسکرت میں سنگھ جنگجو یا شیر کو کہتے ہیں جسے ہندو راجپوت اپنے نام کے ساتھ لکھتے تھے)

1941 کی مردم شماری کے مطابق ریاست جموں اور کشمیر کی تین چوتھا ئی سے ذیادہ یعنی کل آبادی کا 77 فیصد مسلمانوں پر مشتمل تھی ۔ کل ٓابادی کا 20 فیصد ہندو اور 3 فیصد سکھ اور بدھ مذہب سے تعلق رکھتے تھے، یہ بڑی اہم حقیقت ہے اس کا تعلق کشمیر کے تنازع کی بنیاد سے بھی ہے اور انڈیا کے آئین میں کی جانے والے حالیہ تبدیلی سے بھی۔

برصغیر کی تقسیم کے وقت ہندوستان میں طرز حکمرانی کے لحاظ سے دو قسم کے علاقے تھے ایک صوبہ جات تھے جیسے پنجاب ، سندھ، بنگال وگعرہ جو براہ راست برٹش ایمپائر کے زیر حکومت تھے اور دوسرے 584 ریاستیں (princely states) تھیں جو تھیں تو برٹش حکومت کے زیر سایہ لیکن اپنے حکو متی معاملات میں خود مختار تھیں اور راجے، مہاراجے، نواب اور نظام ان پر حکومت کرتے تھے۔ حیدر آباد ، جونا گڑھ اور جموں و کشمیر تین سب سے بڑی ریاستیں تھی، حیدرآباد اور جونا گڑھ کی اکثرییتی ٓا بادی ہندو مذہب کی ماننے والی تھی لیکن دونوں ریاستوں کے حکمران مسلمان تھے اس کے برعکس جموں و کشمیر کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل تھی لیکن ہندو ڈوگرہ حکمران تھے،

تقسیم ہندوستان کے موقع پربرصغیر کی آزادی کے قانون انڈین انڈیپنڈنس ایکٹ Indian Independence Act 1947″ کے مطابق برٹش انڈیا کی ریاستیں princely states کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ تین میں سے کسی ایک راستہ کاانتخاب کر لیں: 1-انڈیا کے ساتھ شامل ہو جائیں ،2- پاکستان میں ضم ہو جائیں یا 3- ایک خود مختار ریاست بن جائیں،

نظام حیدر آباد نے خود مختار رہنے کا اعلان کیا لیکن انڈیا نے اپنی فوج کے ذریعے قبضہ کر لیا کہ ریاست کی ہندو اکثریتی عوام بھارت میں شامل ہونا چاہتے ہیں، ریاست جونا گڑھ کے نواب نے اپنے مشیر شاہنواز بھٹو (ذولفقار علی بھٹو کے والد اور بینظیر بھٹو کے دادا) کے مشورہ پر پاکستان میں شامل ہونے کا اعلان کیا جسے پاکستان نے قبول کرلیا ، لیکن بھارت نے یہاں بھی وہی موقف اپنا کہ ریاست کی ہندو اکثریتی عوام انڈیا میں شامل ہونا چاہتے ہیں، اس لیے زبردستی ایک نام نہاد استصواب رائے کا ڈھونگ رچایا اور جونا گڑھ کو بھی بھارت میں شامل کرلیا۔

ریاست جموں وکشمیر کی غالب اکثریت مسلمان تھی اور وہ جغرافیائی طور پر بھی پاکستان کے ساتھ واقع تھی اس لیے جولائی 1947 میں قائدِاعظم کی طرف سے مہاراجہ کو ایک خط لکھا گیا جس میں پاکستان میں شامل ہونے کی نہ صرف دعوت دی گئی تھی بلکہ شامل ہونے کی صورت میں ہر طرح کے ‘favourable treatment کی یقین دہانی بھی کروائی گئی تھی۔

اس وقت جموں و کشمیر میں دو بڑی سیاسی پارٹیز کام کررہی تھیں، ، شیخ عبدللہ کی صدارت میں نیشنل کانفرنس اور چوہدری غلام عباس کی صدارت میں مسلم کانفرنس، مسلم کانفرنس نے 1946 کے ریاستی انتخابات میں مسلمانوں کے لیے مخصوص 21 میں سے 15 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی، باقی 6 نشستوں پر مسلم کانفرنس کے امیدواروں کے نومینیشن پیپرز مسترد کر دیے گئے تھے،اس وجہ سے مسلم کانفرس مسلمانوں کے لیے مخصوص 15نشستوں پر ہی الیکشن لڑ سکی اور تمام 15 نشستوں پر کامیابی بھی حاصل کی۔ دوسری بڑی سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس کے صدر شیخ عبدللہ غداری کے مقدمہ میں جیل میں تھے اور ان کی جماعت نے الیکشن کا بایئکاٹ کیا تھا، اس طرح اس وقت مسلم کانفرنس ہی کشمیر کی نمائیندہ سیاسی قوت تھی،

جولائی 1947 کو مسلم کانفرنس نے سردار ابراہیم خان کی رہائشگاہ پر ہونے والے اجلاس میں پاکستان میں شمولیت کے حق میں قرارداد منظور کی اور مہاراجہ سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کرے اور مزید یہ کہ مسلم کانفرنس انڈیا کے ساتھ الحاق کو قبول نہیں کرے گی۔

ریاست جموں اور کشمیر کے ہندو مہاراجہ ہری سنگھ نے یہ دیکھتے ہوے کہ اگر انڈیا کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تو ریاست کی مسلمان اکثریت ، جو مسلم کانفرنس کی صورت میں ایک مضبوط سیاسی ٓاواز رکھتی تھی ، بغاوت کردے گی ہندوستان کے ساتھ الحاق سے گریز کیا لیکن پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان بھی نہ کیا، مہاراجہ ہری سنگھ کو اس کے اپنے وزیر اعظم راجہ چندرا نے کانگرس، وائسرائے اور قائد اعظم سے ملاقاتوں کے بعد مشورہ دیا کہ وہ فی الحال کسی فریق کی حمایت نہ کرے اور بعد ازاں کشمیر کی اکثریتی مسلمان آبادی کے مشورے سے کشمیر کے مسقبل کا فیصلہ کرے۔ جس پر مہاراجہ ہری سنگھ نے پاکستان اور بھارت کے ساتھ ایک stand still treaty سائن کی جس کے مطابق کشمیر کے الحاق کا معاملہ فی الوقت معطل رکھا جائے گا اور مہاراجہ آئیندہ لائحہ عمل پر اتفاق سے پہلے پاکستان یا بھارت کسی کے ساتھ الحاق کا اعلان نہیں کرے گا۔ پاکستان ، بھارت اور ریاست جموں و کشمیر تینوں اس stand still treaty کے فریق تھے اور تینوں اس treaty پر عمل درآمد کے پابند تھے۔ لیکن 11 اگست 1947 کو مہاراجہ نے اپنے پرائم منسٹر راجہ چندرا سے وزارت عظمی واپس لے لی اور کانگریس کے ساتھ بات چیت شروع کر دی، مسٹر گاندھی سمیت کا نگرسی قیادت نے سرینگر میں مہاراجہ سے ملاقاتیں کی، جس سے بات ظاہر ہو رہی تھی کی مہاراجہ ہری سنگھ اور بھارت stand still treaty خلاف ورزی کرتے ہوےکشمیری عوام کی ۸۰ فیصد ٓابادی کی امنگوں کے خلاف ریاست جموں و کشمیر کے بھارت سے الحاق کی سازش کر رہے تھے۔

اس دوران مہاراجہ ہری سنگھ نے کشمیر کی مسلماں آبادی کو ڈرانے اور مشرقی پنجاب کی طرز پر قتل و غارت کا بازار گرم کر کےکشمیر ی مسلمانوں کو چھوڑ جانے پر مجبور کرنا شروع کردیا۔ مہاراجہ کی فوج، پولیس، ہندو انتہا پسند تنظیموں مہا سبھا اور RSS نے مسلمانوں پر ظلم و تشدد شرو ع کر دیا، ریاست کے مسلمان سرکاری افسروں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا، سیاسی قیادت اور کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا، اور عام عوام کو قتل غارت اور لوٹ مار کے ذریعے کشمیر چھوڑ دینے پر مجبور کیا جانے لگا، ہزاروں لوگ اپنے گھر بار، زمین و جائیداد اور کاروبار چھوڑ کر پاکستان ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے، بالخصوص جموں میں جہاں اگر چہ اس وقت مسلمان آبادی 60 فیصد تھی لیکن بعض شہروں میں ہندو اکثریت میں تھے ، RSS اور ہندو مہا سبھا نے ڈوگرہ فوج اور پولیس کی مدد سے مسلمان اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے ایک سستیمیٹک طریقے سے مسلمانوں پر ظلم و ستم کا پہاڑ توڑ دیے، یہ وہی RSS ہے جس کا ذکر آپ نے وزیر اعظم پاکستان کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کی گئی حالیہ تقریر میں بھی سنا ہو گا، اور انڈین وزیراعظم مودی آج بھی RSS کے مسلمانوں کی نسل کشی کے اسی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے کیونکہ بقول اروندوھتی رائے انڈیا کو کشمیر کے لوگ نہیں کشمیر کی زمین چاہیے۔

سردار محمد ابراھیم خان اپنی کتاب “کشمیر ساگا” میں لکھتے ہیں کی تین لاکھ سے زائد لوگ صرف تین اضلاع جموں ، ادھم پور اور کاٹھووا سے ہجرت کر کے پاکستان جانے پر مجبور ہوئے اور اتنے ہیں قتل کر دیے گئے۔ ان حالات میں برٹش انڈین ٓا رمی سے ریٹائرڈ کشمیری مسلمانوں نے اپنے طور پر اکٹھے ہو کر یہ فیصلہ کیا کہ ان کی بقا صرف اسی صورت میں ممکن ہے اگر وہ مہاراجہ کی ڈوگرہ فوج کے خلاف مزاحمت کریں گے، اسی دوران ان کی اپیل پر غیور قبایلی اپنے کشمیری بھائیوں کی مدد کے لیے نکلے اور ڈگرہ فوج کو پسپا کرتے ہوئے 24 اور 25 اکتوبر کو سری نگر کے نواح میں پہنچ گئے۔

اس دوران مہاراجہ نے انڈین آرمی کو مدد کے لیے بلایا جو پہلے ہی اس بات کے انتظار میں تیا ر بیٹھی تھی، انڈین آرمی نے آرٹلری اور فضائیہ کی مدد سے کشمیری اور قبائیلی مجاہدین کے خلاف محاذ کھول دیا، انڈین آرمی اگرچہ کچھ مقامات پر مجاہدین کی پیش قدمی روکنے میں کامیاب رہی لیکن بہت سارےمقامات پر اس کی حالت خراب تھی جو ہر گزرتے دن خراب تر ہوتی جارہی تھی، اور وہ کشمیری اور قبائیلی مجاہدین کے زیر کنٹرول علاقوں پر قابض نہیں ہو پا رہی تھی۔

ابتداّّ کشمیر میں حالات خراب ہونے پر پاکستان نے نومبر 1947 انڈیا کو معاملہ اقوام متحدہ کی مدد سے حل کرنے کی پیش کش کی جسے انڈیا نے مسترد کر دیا لیکن جب انڈین فوج کوئی بڑی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی بلکہ حالات کو دن بدن اپنے خلاف جاتے دہکھ کر جنوری 1948 میں انڈیاخود اقوام متحدہ چلا گیا جہاں اس نے جنگ بندی کی پیشکش کی اور سلامتی کونسل میں یہ وعدہ کیا کہ جنگ بندی کی صورت میں کشمیری خود اپنے مستقبل کا فیصلہ استصواب رائے (referenum or plebiscite) کے ذریعہ کریں گے، پاکستان نے اس پر اتفاق کیا اور جنگ بندی ہو گئی، ۔ جو علاقے اس وقت تک کشمیری اور قبائیلی مجاہدین نے آ زاد کروا لیے تھے ان پر مشتمل آزاد جموں و کشمیر کی حکومت قائم کردی گئی اور سردار محمد ابراہیم خان اس کے پہلے صدر نامزد ہوئے۔

یونایٹڈ نیشنز نے یو این کمیشن فار انڈیا اینڈ پاکستان قائم کیا جس کی ذمہ داری جنگ بندی اور پلے بے سائیٹ پر عمل درآمد ممکن بنانا تھا، لیکن انڈیا نے حیلہ بہانا سے کمیشن کی تمام تجاویز مسترد کر دیں اور معاملے کو ٓاگے سے آگے موخر کرتا رہا۔ کمیشن نے 1950 میں سر اوون ڈکسن Sir Owen Dixon کو اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل درآمد کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کےلیے مقرر کیا، لیکن سر ڈکسن کی طرف سے پیش کی گئی کشمیر میں استصواب رائے کے لیے ڈی ملٹرایزیشن کی تمام سکیمیں انڈین ہٹ دھرمی کی وجہ سے ناکام ہو گئیں، جس کے لیے سر ڈکسن نے واضح طور پرانڈیا کے رویہ کو اس ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا،

ایک مکمل استصواب رائے پر عمل درآمد میں ناکامی پر سر ڈکسن نے ایک اور فارمولا پیش کیا ، اس فارمولے کے مطابق، سر ڈکسن کی نطر میں کشمیر مختلف خطوں پر مشتمل ایک ایسی ریاست تھی جس کے لوگوں کی کوئی ایک متفقہ رائے نہیں تھی، بلکہ سر ڈکن کے مطابق جموں اور لداخ کے لوگ انڈیا کے ساتھ شامل ہونے کے حق میں تھے اور آزاد کشمیر اور ناردرن ایریاز کے لوگ پاکستان کے ساتھ، صرف وادی کشمیر کے لوگوں کی رائے ریفرنڈم کے ذریعہ معلوم کر لی جائے، ،لیکن اس تجویز کو بھی انڈیا نے ہی مسترد کردیا، کیونکہ ریفرنڈم کےلیے شیخ عبدللہ کی ھکومت کو معطل کرنے اور انڈین فوج کو وادی سے نکلنا تھا، ، انڈین نے دونوں باتیں قبول نہیں کی اور ساتھ ہی اس بات کو ماننے سے انکار کر دیا کہ اگر انڈین فوج وادی میں موجود ہو گی تو پاکستانی فوج بھی موجود رہے، انڈیا کے انکار پر سر ڈکسن اور امیریکن سفیر نے رپورٹ دی کہ انڈیا کسی بھی صورت غیر جانبدار ریفرنڈم نہیں چاہتا۔

1953 مٰیں اسٹریلیا کے وزیرا عظم نے کامن ویلتھ فورس کو کشمیر میں اپوائینٹ کرنے اور اس کے زیر انتظام ریفرنڈم کروانے کی تجویز دی جسے نہرو نے ایک بار پھر مسترد کر دیا، اس کے بعد اقوام متحدہ کی طرف سے آربٹریشن کی تجویز آئی جسے پھر نہرو نے قبول کرنے سے انکار کردیا، 1954 میں امریکہ نے پاکستان کی فوجی امداد کا اعلان کیا جس کو بہانا بنا کر نہرو اپنے استصواب رائے کے وعدے سے ہی مکر گیا۔

1962 میں چائینہ اور انڈیا کی جنگ ہوتی ہے ، اسی وقت اگر پاکستان کشمیر کے محاذ پر جنگ چھیڑ دیتا تو آسانی کے ساتھ کشمیر کو آزاد کر وا سکتا تھا لیکن امریکہ اور برطانیہ ے نے پاکستان کو اس جنگ میں شامل ہونے سے باز رکھا کیونکہ اس طرح چائینہ کو بالواسطہ مدد ملتی تھی اور امریکہ اور انگلینڈ اس وقت ایک کمیونسٹ ملک کی کسی بھی طرف سے مدد نہیں چاہتے تھے، امیریکہ اور بریطانیہ نے پاکستان کو یقین دلایا کہ اگر پاکستان اس وقت جنگ سے باز رہے تو وہ انڈیا کو استصواب رائے کے وعدہ پر عمل درآمد پر مجبور کریں گے، چائینہ تو اس کے باوجود جنگ جیت گیا لیکن ہم نے کشمیر کی آزادی کا ایک نادر موقع امیریکہ اور انگلینڈ کے کبھی نہ پورا ہونے والے وعدہ کی بنیاد پر ضائع کر دیا،

1965 پاکستان نے مجاہدین کشمیر داخل کرکے ایک تیز ترین جنگ کی مدد سے کشمیر کو ٓازاد کروانے کی کوشش کی، پاکستان کا پلان تھا کہ نیے امیریکن اسلحہ کی بنیاد پر وہ کشمیر کے اندر بھارتی فوج کو شکست دے دے گا اور ایسا نہ بھی ہوا تو بھی دنیا کی توجہ اس مسئلہ کی طرف مبذول کروانے میں کامیاب ہو جائے گا، اور اس میں پاکستان کسی حد تک کامیاب بھی رہا، لیکن کشمیر میں اپنی شکست کو دیکھتے ہوے انڈیا نے پنجاب پر حملہ کر دیا جس کا پاکستان نے تقریباّ سترہ دن تک کامیاب دفاع کیا ، لیکن اس وقت تک پاکستان کے محدود وسائیل ختم ہونا شروع ہو گیے اور پاکستان کو مجبوراّ روس کے کہنے پر تاشقند میں جنگ بندی اور افواج کی 6 ستمبر والی پوزیشن پر واپسی پر راضی ہونا پڑا،

یہی وہ معاہدہ تاشقند تھا جس کے بعد بھٹو نے ایوب خان پر الزام لگایا تھا کہ میدان میں جیتی ہوئی جنگ مذاکرات کی ٹیبل پر ہار دی گئی، دراصل جنگ بندی کے وقت انڈیا کے کچھ علاقے پاکستان کے قبضہ میں آ چکے تھے جنہیں معاہدہ پاکستان کی رو سے واپس کرنا پڑا تھا، ایسا کیوں کیا گیا اس کی کئی وجوہا ت ہیں جس پر الگ سے گفتگو کی جا سکتی ہے لیکن فی الحال یہ بتانا مقصود ہے کہ 1948 کے بعد ایک بار پاکستان نے کشمیر کو جنگ سے ٓازاد کروانے کی کوشش کی جو کامیاب نہیں ہوئی۔

1965 کی جنگ کے بعد کشمیر میں مسلح جدو جہد کا ٓاغاز ہو تا ہے، مقبول بٹ، امان اللہ اور ہاشم قریشی اس جدوجید کے روح رواں ہوتے ہیں

1971 کی جنگ میں انڈیا نے پاکستان کی 90000 فوجیوں کو بنگلہ دیش میں قیدی بنا لیا، جن کی واپسی کے لیے پاکستان اور انڈیا نے شملہ میں مذاکرات کیے، انڈیا نے پاکستان کو قیدی واپس کرنے کے لیے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان سیز فائیر لائن کو مستقل بارڈر تسلیم کرلے اور استصواب رائے کے اپنے مطالبے سے ہٹ جائے، پاکسان کے اس وقت کے وزیر اعطم ذولفقار علی بھٹو تو کیا پاکستان کے کسی بھی حکمران کے لیے عوامی رد عمل کے ڈر سے کے لیے یہ مطالبہ ماننا ممکن نہیں ۔ لیکن اپنے 90000 قیدیوں کی واپسی بھی بھٹو حکومت کے لیے بہت بڑا سیاسی چیلنج تھا، جس کے لیے بھٹو نے اندرا گاندھی کے ساتھ ایک معاہدہ سائن کیا جسے شملہ معاہدہ (Shilma agreement) کہا جاتا ہے۔ شملہ معاہدہ میں دونوں فریق اس بات پر راضی ہو گئے کہ اپنے تمام تنا زعات کو پرامن طور پر مذاکرات کے ذریعہ حل کریں گے، اور سیز فائیر لاین کو کنٹرول لائین کہا جاے گا اور دونوں مملک کنٹرول لائین کا احترام کرینگے۔ (انڈیا کا یہ دعوی ہے کی بھٹو سیز فائیر لائن کو مستقل سرحد بنانے پر راضی ہو گیا تھا لیکن اپنی سیاسی مصلھتوں کی وجہ سے اس کو معاہدہ کا باقائدہ حصہ نہیں بنایا) انڈیا اس معاہدہ کو اس طرح انٹر پریٹ کرتا ہے کہ پاکستان نے اس معاہدہ کی رو سے تسلیم کرلیا ہے کہ اپ تمام تنازعات دونوں ملک آپس کی بات چیت سے طے کریں گے اور کسی تیسرے فریق بشمول اقوام متحدہ کو انوالو نہیں کریں گے، پاکستان انڈیا کی اس انٹرپریٹیشن کو نہیں مانتا اور کشمیر کے مسئلہ کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں ہی چاہتا ہے،

اسی کی دہائی میں میں ریجن میں ہونے والی تبدیلیوں نے کشمیری نوجوانوں کی بھی متاثر کیا ، بالخصوص افغان جہاد ، انقلاب ایران اور پھر 1984 میں کشمیری حریت پسند مقبول بٹ کی شہادت نے کشمیریوں کے غم و غصہ کو ہوا دی اور عالمی اداروں سے مایوس فرسٹریٹڈ کشمیری نوجوان انڈین ظلم و جبر کے خلاف اور کشمیر کی آزادی لیے مسلح جدوجہد کی طرف مائل ہونے لگے۔

1987 میں مقبوضہ کشمیر کی تمام اسلامسٹ پارٹیز نے مسلم یونائیٹڈ فورم (MUF) کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا۔ کشمیری عوام نے بھر پور پزیرائی بخشی اور الیکشن میں تاریخی ٹرن آوٹ ریکارڈ کیا گیا لیکن تمام تر مقبولیت کے باوجود MUF صرف چار سیٹوں پر کامیابی حاصل کر سکا، اس کا سبب حکمران نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی جانب سے بدترین دھاندلی تھی، جس کا اعتراف بھارت نواز سیاستدانوں اور میڈیا نے بھی ایک تباہ کن غلطی کے طور پر کیا۔ اس دھاندلی نے جمہوری جدوجہد سے مسئلے کی رہی سہی امید بھی ختم کر دی جس سےایک عام کشمیری نوجوان پولیٹیکل پراسس سے مایوس ہو گیا اور مسلح جدوجہد نے زور پکڑا جس کو جواز بنا کر انڈین فوج نے مسلمانوں کی نسل کشی کا عمل اور تیز کردیا۔ کشمیر میں فوج کی تعداد اور اختیارات میں بے انتہا اضافہ کیا،خواتین کی عصمت دری، نوجوانوں کا اغوا اور ماورائے عدالت قتل بھارتی سیکیورٹی اداروں کا معمول بن گیا جو آج اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ 2011 کی ہیومین رائٹس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 2156 لاشیں 40 قبروں میں سے برآمد ہوئیں جن میں سے بڑی تعداد مقامی لوگوں کی شناخت کی گئی۔

(آیندہ نشست میں انشااللہ کارگل وار اور 9/11 کے بعد کشمیر کی جدوجہد آزادی پر گفتگو کے سلسے کو آگے بڑھائیں گے)

  • Kargil War 1999
  • Musharaf backdoor diplomacy and out of box solution
  • 9/11
  • Complete indigenous movement
  • Burhan Wani’s martyrdom July 2016
  • Pulwama Attack
  • Inoperative Articles 370 and 35A of Indian constitution

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close