ہسپتال بحال، وکیل بھی پھولوں کے ساتھ پہنچے مگر

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں وکیلوں کے حملے کے بعد بند کیے گئے ہسپتال پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ایمرجنسی کا شعبہ بھی واقعہ کے دو دن بعد کھول دیا گیا ہے۔

پی آئی سی کی ایمرجنسی کھلنے سے قبل ڈاکٹرز اور نرسنگ سٹاف نے امن کا پیغام دینے کے لیے موم بتیاں جلا کر ہسپتال کے لان میں مارچ کیا۔ اس مارچ میں بڑی تعداد میں عام لوگوں نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلا کا وفد پھول لے کر ہسپتال پہنچا تاہم ڈاکٹرز نے انہیں خوش آمدید کہنے سے انکار کیا اور وکیلوں سے وفد سے کہا گیا کہ ڈاکٹرز اور نرسنگ سٹاف دکھ میں ہے اس لیے وہ فی الوقت واپس چلے جائیں۔

ہسپتال کے ارگرد رینجرز کے اہلکاروں کی بڑی تعداد سکیورٹی کے لیے موجود تھی۔

ایمرجنسی کے بحال ہونے کے موقع پر ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو افسر ڈاکٹر ثاقب شفیع نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ پی آئی سی کی ایمرجنسی میں دو اینجیوگرافی لیبز ہیں جو سنیچر کو صبح کھول دی جائیں گی۔

ہسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد امیر کے مطابق وکیلوں کے حملے کے بعد ہسپتال میں داخل 500 مریضوں کو ڈسچارج کر دیا گیا تھا جبکہ اس دوران 150 سے زائد آپریشنز جن میں بائی پاس بھی شامل تھے، وہ نہیں کیے جا سکے۔

واضح رہے کہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی 1989 میں تعمیر ہوا اور یہ 347 بیڈز کا ہسپتال ہے۔ مجموعی طور پر پنجاب کا سب سے بڑا اور ملک میں دوسرے نمبر پر بڑا دل کا ہسپتال ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close