”چھ ماہ میں قانون سازی، ورنہ نیا آرمی چیف“

پاکستان کی سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ قرار دیتی ہے جنرل قمر جاوید باجوہ چھ ماہ تک آرمی چیف رہیں گے اسے نظریہ ضرورت نہ سمجھا جائے، آئین و قانون میں آرمی چیف کی مدت میں توسیع سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اضافی نوٹ میں لکھا کہ ”آپ جتنے بھی طاقت ور ہو جائیں قانون سے بالاتر نہیں ہوسکتے۔“

جہانزیب عباسی

سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق 43صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف کی مدت میں توسیع کیخلاف آئینی درخواست میں مفاد عامہ کا سوال اٹھایا گیا تھا، عوامی مفاد کے تحت ہی اس معاملے کی سماعت کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے26نومبرکی سماعت میں بعض قانونی سقم کی نشاندہی کی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت نے قوانین پرعمل کرنا ہے افراد کو دیکھنا ہے، ہمارے سامنے مقدمہ تھا کہ کیا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی جاسکتی ہے؟ آرمی چیف کی تعیناتی، ریٹائرمنٹ اورتوسیع کی ایک تاریخ رہی ہے،تاریخ میں پہلی مرتبہ آرمی چیف کی تعیناتی اورریٹائرمنٹ کا معاملہ سامنے آیا،ادارہ جاتی پریکٹس قانون کاموثرمتبادل نہیں ہوسکتا۔

فیصلے میں کہا گیا اب معاملہ پاکستان کے منتخب نمائندوں کی طرف ہے پارلیمنٹ اس حوالے سے قانون سازی کرے۔ یہ یاد رکھیں ادارے مضبوط ہوںگے توقوم ترقی کرے گی۔فیصلے میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع دی،لیکن وزیر اعظم کو ایسا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے ،قانون اورآئین میں مدت ملازمت میں توسیع کی کوئی گنجائش موجودنہیں،آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کوقانونی حمایت حاصل نہیں، تین سال کی توسیع کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے چھ ماہ میں قانون سازی کی یقین دہائی کرائی، اگر چھ ماہ میں قانون نہ بن سکا تو جنرل قمر جاوید باجوہ بطور آرمی چیف ریٹائر ڈہوجائیں گے اور صدر مملکت نئے آرمی چیف کا تقرر کریں گے،قانون سازی نہ ہونے کی صورت میں صدر پاکستان وزیر اعظم کی ہدایت پر حاضر سروس جنرل کو آرمی چیف مقرر کریں گے۔

فیصلے میں بتایا گیا کہ ہمیں اس بات کا ادراک ہے کہ آرمی چیف پاک آرمی کا کمانڈنگ آفیسر ہے ، اس لئے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی توسیع کے لیے کہا۔ عدالتی پابندی کو نظریہ ضرورت کے ساتھ منسلک نہ کیا جائے،اس قسم کی باتیں قانون کے خلاف جائیں گی اور اس سے سیاسی مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا آرٹیکل 203 ڈی کے تحت عدالت وفاقی حکومت کو قانون سازی اور اس میں ترمیم کا کہہ سکتی ہے،آرمی چیف کی تنخواہ اورمراعات کا بھی تعین کیا جائے۔فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہاکسی فوجی قانون میں آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کی عمر ،توسیع یا دوبارہ تعیناتی کی حد کا تعین نہیں ،وزارت دفاع ،صدر مملکت ،وزیراعظم اور کابینہ سے دوبارہ تعیناتی یا توسیع سے متعلق سمریاں بے معنی ہیں ۔اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو یقین دہائی کرائی ہے کہ وفاقی حکومت پارلیمنٹ کے ذریعے ایکٹ کی صورت میں چھ ماہ کے اندر قانون سازی کرے گی ۔سپریم کورٹ نے تحمل کا مظاہر ہ کیا گیا ۔عدالتی تحمل قانون کی حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی کیلئے ضروری ہے ۔

فیصلے میں کہا گیا اختیارات کی تقسیم آئینی جمہوریت کیلئے سنگ بنیادکی حیثیت رکھتی ہے اس لیے ہم اراکین پارلیمنٹ کی حد میں مداخلت نہیں چاہتے ۔سپریم کورٹ نے متعد د مقدمات میں عدالتی تحمل کا مظاہر ہ کرتے ہوئے اختیارات کی تکون کے تحت حکومت کی دیگر شاخوں کو یہ شفاف موقع فراہم کیا کہ وہ آئینی حق استعمال کریں ۔سپریم کورٹ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے وفاقی حکومت کا یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے چھ ماہ میں قانون سازی کرے ۔ آرمی چیف کا عہدہ کمانڈنگ افیسر کا ہوتا ہے جو جنگ میں کمانڈ ،نظم و ضبط ،تربیت ،انتظامی امور کے ذمہ دار ہوتے ہیں ،اس لیے یہ مناسب ہے کہ آرمی چیف کی مدت میں چھ ماہ تک عہدے پر برقرار رہیں، نئی قانون سازی یہ طے کرے گی اُنکی مدت اور ملازمت کی دیگر شرائط کیا ہونگیں ۔سپریم کورٹ کے تحمل کو اُس بدنام اور نامعقول اصلاح نظریہ ضرورت کیساتھ گڈ مڈ یا الجھن نہ پیدا کی جائے جس کا مقصد کوئی سیاسی یا کوئی اور فائدہ لینا ہو ۔اس کیس میں ایسا نہیں ہے درحقیقت جنرل کی مدت ملازمت سے متعلق قانون میں مکمل خلا ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اضافی نوٹ بھی تحریرکیا جس میں کہا گیا اب تک آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع بغیرقانون کے ہوتی رہی، امید ہے کہ پارلیمنٹ آرمی چیف کی مدت ملازمت پرقانون سازی کی جائے گی، مخصوص تاریخ کے تناظرمیں آرمی چیف کاعہدہ کسی بھی عہدے سے زیادہ طاقتور ہے، آرمی چیف کا عہدہ لامحدوداختیار اور حیثیت کا حامل ہوتا ہے، تعجب ہوا آرمی چیف کے عہدے میں توسیع، دوبارہ تقرر کی شرائط و ضوابط کا کسی قانون میں ذکر نہیں، آئین کے تحت صدر کے مسلح افواج سے متعلق اختیارات قانون سے مشروط ہیں ۔قوم کی جمہوری پختگی کے مد نظر عدالت اعلانیہ کہہ سکتی ہے کوئی جتنا بھی طاقتور ہو جائے قانون سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close