’کرنل انعام وزارت دفاع کی تحویل میں ہیں‘

راولپنڈی چھاؤنی کے رہائشی علاقے سے دو ہفتے قبل اغوا کیے جانے والے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے بارے میں عدالت کو بتایا گیا ہے کہ انھیں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا ہے۔

وزارتِ دفاع نے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے اغوا پر دائر درخواست کی سماعت کے دوران یہ معلومات لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کو فراہم کی ہیں۔

جمعرات کو لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس وقاص مرزا نے کرنل انعام کے اغوا کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی تو ڈپٹی اٹارنی جنرل محمد حسین چوہدری اور وزارت دفاع کے نمائندے بریگیڈیئر فلک ناز نے عدالت کو بتایا کہ کرنل انعام ان کی تحویل میں ہیں اور انھیں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔

وزارت دفاع کے نمائندے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان سے اس حوالے سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ عدالت سے کرنل انعام کے وکلا نے استدعا کی کہ ان کو پیش کرنے کا حکم جاری کیا جائے تاہم جسٹس وقاص مرزا نے ہدایت کی کہ کل تک عدالت کو تفصیلی الزامات سے آگاہ کیا جائے۔

انعام الرحیم کے بیٹے حسنین انعام نے سینیئر صحافی مطیع اللہ جان ایم جے ٹی وی کو بتایا تھا کہ رات ساڑھے بارہ بجے کے قریب اڈیالہ روڈ پر عسکری 14 میں واقع ان کی گھر کی گھنٹی بجی اور جب انھوں نے دروازہ کھولا تو سیاہ وردیوں میں ملبوس آٹھ سے دس مسلح افراد ان کے گھر میں گھس آئے تھے۔

کرنل انعام الرحیم لاپتہ افراد اور فوج سے متعلق مقدمات کی پیروی کرتے تھے اور انہوں نے ماضی میں جنرل کیانی کی توسیع کو چیلنج کیا تھا جبکہ جنرل باجوہ کی مدت ملازمت توسیع کے مقدمے میں عدالت کو معاونت فراہم کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان کو 17 دسمبر کو راولپنڈی میں واقع ان کی رہائش گاہ سے اغوا کیا گیا تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close