حسین نواز سے مدینہ میں ملاقات کی، جج ارشد ملک

پاکستان میں سابق وزیراعظم نوازشریف کو سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو ان کے عہدے سے ہٹا کر خدمات وزارت قانون کے ذریعے پنجاب کو واپس کر دی گئی ہیں۔

ارشد ملک کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ اسلام آباد کی ماتحت عدلیہ کی نگرانی کرنے والی ہائیکورٹ کی جانب سے کیا گیا ہے۔

ہائیکورٹ نے وزارت قانون کو جج ارشد ملک کی خدمات واپس کرنے کے لیے خط لکھا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے ترجمان نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹائے جانے کی تصدیق کی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان کی خدمات کی اسلام آباد عدلیہ کو اب مزید ضرورت نہیں رہی۔

اس سے قبل جج ارشد ملک نے اپنی ویڈیو سامنے آنے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کرکے بیان حلفی جمع کروایا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ترجمان کے مطابق ارشد ملک نے اپنے موقف پر ایک پر مشتمل ایک بیان حلفی ہائیکورٹ کے رجسٹرار کے ذریعے چیف جسٹس کو دیا جس میں انھوں نے ان ویڈیوز کی تردید کی اور کہا کہ اس طرح کی ویڈیو نہ صرف ایڈیٹ کی گئی ہیں بلکہ ان کی شہرت کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی کے ساتھ سات جولائی کو اس ویڈیو سے متعلق جاری کی گئی اپنی پریس ریلیز کی نقل بھی منسلک کی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ترجمان کے مطابق عدالتِ عالیہ کے رجسٹرار اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے احتساب عدالت کے جج کے بیان کا جائزہ لینے کے بعد وزارتِ قانون کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا جس میں بطور جج احتسا ب کورٹ ارشد ملک کی خدمات فوری طور پر واپس لینے کے بارے میں کہا گیا ہے۔

جج ارشد ملک نے بیان حلفی میں لکھا ہے کہ یکم جون کو ان کی مدینہ میں حسین نواز شریف سے ملاقات ہوئی جس میں ان کو 500 ملین رشوت کی پیش کش کی گئی۔ جج کے مطابق حسین نواز کا لہجہ دھمکی آمیز تھا اور انہوں نے ’میرے پورے خاندان کو برطانیہ یا کینیڈا منتقل کرنے کی بھی آفر کی۔‘

خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے جج ارشد ملک کی ایک مبینہ ویڈیو جاری کی تھی جس میں دکھایا گیا تھا کہ وہ سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف دیے گئے فیصلے پر نادم ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close