’عدلیہ کی ساکھ کا سوال ہے‘

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ احتساب عدالت کے جج کی ویڈیو تصدیق کے بعد عوام کے سامنے رکھی، حکومت کی مداخلت ثابت ہوچکی، اعلیٰ عدلیہ معاملے کا ازخود نوٹس لے جر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے۔

اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ویڈیو میں احتساب عدالت کے جج نے قبول کیا کہ فیصلہ دباؤ میں دیا، اس اعتراف کے بعد نواز شریف کو جیل میں رکھنا غیر قانونی ہے۔

سابق وزیراعظم عباسی کا کہنا تھا کہ احتساب عدالت کے جج کی ویڈیو کے بعد انصاف کا پورا نظام شکوک و شبہات کا شکار ہوگیا، جج نے پریس ریلیز میں بھی ویڈیو سے انکار نہیں کیا تاہم اب بچاؤ کےلئے کہانیاں گھڑ رہے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ معاملہ صرف ایک جج کا نہیں سپریم کورٹ کا مانیٹرنگ جج بھی موجود تھا۔


سابق وزیراعظم شاہد خاقان نے کہا کہ جج کو تو ویڈیو سامنے آنے کے بعد ہٹا دیا گیا جس سے پتہ چلتا ہے دال میں کالا ہے تاہم جج کا متاثرہ فریق تاحال جیل میں ہے۔


شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا ”دوسال میں مسلم لیگ ن کے ساتھ جو کیا گیا اس کا فیصلہ تاریخ کرے گی، چالیس منٹ کے ثبوت دے دیے مزید کی ضرورت نہیں۔“

ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے طلب کیا تو ضرور جائیں گے وہ ہر کیس کا سامنے کرنے کےلیے تیار ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close