”عدالتی حکم کے بعد چیف جسٹس کا اختیار محدود“

عابد علی آرائیں ۔ صحافی

پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی نے آبزرویشن دی ہے کہ عدالت عظمی کے بینچ کی طرف سے لارجربینچ تشکیل دینے کے عدالتی حکم کے بعد چیف جسٹس کے پاس صوابدیدی اختیارات نہیں رہتے۔ ایسی صورت میں چیف جسٹس کے اختیارات محدود ہوجاتے ہیں اور ان کو لارجر بنچ تشکیل دینا چاہیے تاہم جسٹس قاضی فائزعیسی کی اس رائے سے جسٹس منیب اختر نے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس کے صوابدیدی اختیارات محدود نہیں ہوتے۔

یہ آبرویشنز ایلیٹ فورس خیبر پختونخوا کے کمانڈنٹ کی جانب سے دائر اپیل کے فیصلے میں سامنے آئی ہیں جو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جاری کیا ہے۔

بینچ کے دیگر ممبران میں جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں۔

عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے دونوں فریقین کی مشاورت سے معاملہ کی دوبارہ انکوائری کا حکم دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ دو ماہ میں انکوائری مکمل کی جائے تاہم تین رکنی بینچ کے رکن فاضل جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے الگ نوٹ لکھتے ہوئے قراردیا ہے کہ ان کی، مودبانہ رائے کے مطابق جب عدالت عظمی جوڈیشل آرڈر کے ذریعے کسی قانونی نقطہ کی تشریح کے لیے لارجرکی تشکیل کے لئے معاملہ چیف جسٹس کو بھجواتا ہے تو چیف جسٹس کے صوابدیدی اختیارات کے پاس صوابدیدی اختیارات نہیں رہتے۔ ایسی صورتحال میں چیف جسٹس کے اختیارات محدود ہوجاتے ہیں۔

فاضل جج نے یہ آبزرویشن ،مذکورہ کیس میں ایک اور مقدمہ” شفقت بنام ریاست ” کے فیصلہ کے ضمن میں دی ہے۔ ”شفقت بنام ریاست کیس” میں فیصلہ دینے والے بینچ نے لکھا تھا کہ ”ہم یہ کیس چیف جسٹس کو لارجر بینچ کی تشکیل کے لئے ریفر کررہے ہیں۔ فاضل جج نے لکھا ہے کہ انہوں نے سیکرٹری کے ذریعے پتہ کروایا تو معلوم ہوا کہ بینچ کی آبزرویشن سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو بھجوائی گئی تھی لیکن انہوں نے لارجربینچ تشکیل دینے سے انکار کردیا تھا۔

اسی بینچ کے فاضل رکن جسٹس منیب اختر نے اپنے الگ نوٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسی کی آبزرویشن سے اتفاق نہیں کیا اورجسٹس گلزار احمد کے ایک فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ لارجر بینچ کی تشکیل چیف جسٹس کی صوابدید ہے اور چیف جسٹس کی پوزیشن کم نہیں ہوگی۔

فاضل جج نے کہا ہے کہ ان کے رائے کے مطابق یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ چیف جسٹس ”ماسٹرآف روسٹر” ہیں اور ان کی اس پوزیشن کو متاثر نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی انہیں پابند کیا جاسکتا ہے۔ جسٹس منیب اختر نے کہا ہے کہ ان کی سمجھ کے مطابق یہی قانون پوزیشن ہے۔

یاد رہے کہ اس کیس کی سماعت 28فروری 2019کو ہوئی تھی اور فیصلہ سنایا گیا تھا تاہم تحریری فیصلہ اب جاری کیا گیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close