عمران خان کے خطاب کی اہمیت

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورہ امریکہ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک واپس جا کر سابق وزیراعظم نواز شریف کے جیل کمرے سے ٹی وی نکالیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کہتے ہیں جیل کا کھانا اچھا نہیں ہے، ایئرکنڈیشنر لگا دو، اب ٹی وی چاہیے، اگر یہی سب کچھ جیل میں دینا ہے تو یہ سزا تو نہیں ہوئی، ایئرکنڈیشنر اور ٹی وی جیل سے نکالیں گے جس پر مریم بی بی بہت شور مچائیں گی۔

عمران خان نے نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بیرون ملک سے سفارشیں کرائی گئیں، ایک بادشاہ نے بھی سفارش کی۔ ”اگر ہم نے طاقتور کا احتساب کر دیا اور بے نامی جائیدادیں ضبط کرلیں اور بیرون ملک گیا پیسہ واپس لے آئے تو یہی ہے وہ وقت جب پاکستان بدلے گا۔“

عمران خان کا کہنا تھا کہ قوم پاکستان کو ہر سال تبدیل ہوتا اور اوپر جاتا دیکھے گی۔ 

امریکی شہر واشنگٹن ڈی سی کے کیپیٹل ون ایرینا میں امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد سے خطاب کرتے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وہ پاکستان کو ریاستِ مدینہ کی طرز پر ایک فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں طاقتور افراد کا احتساب شروع ہو چکا ہے۔

عمران خان نے ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ مشکل وقت ہے جو چند ماہ یا سال بھر تک رہے گا لیکن ہم ملک کو مشکل سے نکال کر دکھائیں گے۔ ’آج تک کبھی کسی کے سامنے جھکا ہوں اور نہ اپنی قوم کو کبھی جھکنے دوں گا۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں معدنیات کے اربوں ڈالر کے ذخیرے موجود ہیں۔ ’ہمارے ملک میں اربوں ٹن کوئلہ موجود ہے۔ یہاں تو سو سال تک بجلی کی کمی ہونی ہی نہیں چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ بڑی کمپنیاں پاکستان میں کرپشن کی وجہ سے نہیں آتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جن کمنپیوں سے بھی ملے ہر کمپنی یہی کہتی ہے کہ ہم سے رشوت مانگی جاتی ہے لیکن اب کمپنیاں پاکستان ضرور آئیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم پہلی بار سرکاری اسکولوں میں ایک نصاب لانے کی کوشش کررہے ہیں، مدرسوں کی تنظیموں سے معاہدہ کرکے مدرسے کے بچوں کو عصری علوم دینے کا کام جاری ہے تاکہ وہاں سے بھی ڈاکٹر و انجینئر بنیں کیوں کہ 25 لاکھ بچے مدرسے میں جاتے ہیں۔

عمران خان نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان میں کرپشن پر بات ہوتی ہے تو کہتے ہیں کیوں نکالا؟ دراصل یہ نیا پاکستان بن رہا ہے۔ یہ ہے تبدیلی، کبھی پاکستان میں طاقتور کا احتساب نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ سب حکومت کے خلاف اکھٹے ہو گئے ہیں اور ان کا ایک ہی مقصد ہے این آر او۔ ان کا کہنا تھا کہ ’انھیں جو کرنا ہے کرلیں، دھرنا دینا ہے تو کنٹینر دیتا ہوں، جلسے کرنا ہے تو وہ کریں لیکن لوٹا ہوا پیسہ واپس دینا پڑے گا۔‘

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close