ناران میں لینڈ سلائیڈنگ، چار ہلاک

نعمان شاہ ۔ صحافی / مانسہرہ

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے مشہور سیاحتی مقام ناران میں تیز بارش کے بعد لینڈ سلائیڈنگ سے بند سڑک کو 24 گھنٹے بعد چھوٹی گاڑیوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

مانسہرہ کے ڈپٹی کمشنر کیپٹن اورنگزیب نے بتایا ہے کہ سڑک آٹھ مختلف مقامات سے بند تھی اور علاقے میں دو ہزار کے لگ بھگ سیاح پھنس گئے تھے جن کو اب نکالا جا رہا ہے۔

اس سے قبل جمعہ کی صبح موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مانسہرہ ناران جھل کھڈ لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آکر چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن میں سے دو کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ دو کی تلاش جاری ہے۔

ریسکیو زرائع کے مطابق شاہراہ کاغان جلکھڈ کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کے نیچے دب کر مرنے والے دو افراد کی لاشیں نکال لی گئیں۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق مرنے والے میاں بیوی ہیں جن کا تعلق لیہ پنجاب سے ہے۔ دونوں کی میتوں کو بذریعہ ایمبولیس انکے آبائی علاقہ روانہ کر دیا ہے۔

ریسکیو اہلکاروں کے مطابق سلائیڈنگ کے نیچے دب جانے والے دو مقامی افراد کی تلاش جاری ہے۔

مانسہرہ کے ڈپٹی کمشنر کیپٹن اورنگزیب کے مطابق شاہراہ کاغان کو کھولنے میں مزید 4 سے 5 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ ”تمام متعلقہ اداروں اور ضلعی انتظامیہ کی بھاری مشینری لینڈ سلائیڈنگ ہٹانے میں صبح سے مصروف ہے۔ خراب موسم کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔“

ڈی سی نے بتایا کہ سڑک کھولنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لارہے ہیں۔ سیاح بابو سر ٹاپ سے چلاس کوہستان کے راستے واپس جا سکتے ہیں۔

اس سے قبل مقامی افراد اور سیاحوں نے شکایت کی تھی کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے تاحال سڑک کی بحالی کا کام شروع نہیں کیا۔

عینی شاہدین کے مطابق دو گاڑیاں بھی لینڈ سلائیڈنگ تلے پھنسی ہوئی ہے تاہم انتظامیہ نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ سیاحوں نے وزیراعظم عمران خان سے سڑک بحالی کے لیے اپیل کی جبکہ ضلعی انتظامیہ کا دعوی کیا تھا کہ راستے کی بحالی کا کام جاری ہے۔

ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ناران سے کچھ آگے برساتی نالے نے سڑک کا کٹاؤ کیا ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ کاغان سے ناران اور وہاں سے جل کھڈ کے درمیان آٹھ مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے جس کی وجہ سے دو ہزار سے زائد سیاحوں نے رات اپنی گاڑیوں میں گزاری۔

بعض سیاحوں نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو بہتر بنانے کے دعوے کرنے والے وفاقی وزیر مراد سعید کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے۔

تحصیل بالاکوٹ کے اسسٹنٹ کمشنر نواب سمیر نے بتایا کہ بھاری لینڈ سلائیڈنگ سے بڑوئی اور جل کھڈ کے درمیان 8 مقامات پر شاہراہ بدستور بند ہے جبکہ راستے میں پھنسے عوام شدید مشکل میں ہیں۔

اے سی بالاکوٹ کا کہنا تھا کہ ہزاروں مسافروں نے رات کھلے آسمان تلے گزاری ہے۔ ہر 2 کلومیٹر پر بھاری لینڈ سلائیڈنگ آگئی ہے۔اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق ایک سلائیڈ کے نیچے 2 افراد کے دب جانے کی بھی اطلاع ملی ہے۔ تمام ادارے الرٹ ہیں مگر مسافروں تک رسائی مشکل ہے۔ پھنسنے والوں میں گلگت جانے والے مسافر اور سیاح شامل ہیں۔

اے سی بالاکوٹ نے بتایا کہ محصورین میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ محصورین تک رسائی کے لئے ہیلی کاپٹر کی اپیل کر دی ہے۔ پھنسے افراد تک خوراک پہنچانا پہلی ترجیح ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close