صدیقی کی گرفتاری کے پیچھے کون؟

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کے مشیر اور معروف کالم نگار عرفان صدیقی کی اسلام آباد میں کرایہ داری قانون کی خلاف ورزی پر گرفتاری اور 14 دن کے لیے جیل بھیجا جانا ہر طرف موضوع بحث ہے اور ہر کوئی اس کے پیچھے موجود محرکات تلاش کرنے کی کوشش میں ہے۔

پاکستان ٹوئنٹی فور نے اسلام آباد پولیس اور وزارت داخلہ میں موجود ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کی روشنی میں چند نتائج اخذ کیے ہیں جو پڑھنے والوں کے لیے پیش ہیں۔

معروف کاروباری شخصیت جاوید اقبال کو شہر کے جی ٹین سیکٹر میں کرائے پر دیا گیا مکان عرفان صدیقی کے بیٹے کی ملکیت ہے۔

اس مکان کا معاہدہ کرایہ داری 20 جولائی کو لکھا گیا اور ایک لاکھ 70 ہزار کرایہ طے کیا گیا۔

اس معاہدے کے صرف چھ دن بعد 26 جولائی کو رات دس بجے قریبی پولیس تھانے رمنا کے چار اہلکاروں نے اس گھر کے دروازے پر کرایہ دار کے کوائف کی پڑتال کے لیے دستک دی۔

یہاں یہ سوال اہم ہے کہ شہر میں روزانہ ایسے سینکڑوں کرائے کے معاہدے ہوتے ہیں تو پھر اس گھر کی اطلاع پولیس کو اتنی جلدی کیسے ہوگئی؟

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاع انٹیلی جنس بیورو کے ایک اہلکار نے دی۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ پولیس نے مذکورہ مکان کے سوا کسی دوسرے گھر پر دستک دے کر مکینوں سے کرایہ داری کے کوائف کا نہیں پوچھا۔

ذرائع کا دعوی ہے کہ عرفان صدیقی سے حکومت میں موجود اہم شخصیت ان رابطوں کی وجہ سے ناراض تھی جو انہوں نے راولپنڈی کی اہم شخصیات سے کیے تھے۔

حیران کن طور پر 26 جولائی کی رات دس بجے کرایہ دار جاوید اقبال سے پوچھ گچھ کے ایک گھنٹے کے اندر مقدمہ درج کر کے عرفان صدیقی کو گھر سے باہر بلا کر حراست میں لیا گیا۔

پولیس ذرائع کا دعوی ہے کہ عام طور پر ایسے معاملات میں کرایہ دار اور مالک مکان کو تھانے بلا کر مقدمہ درج کیے بغیر ہی ”لے دے کے“ طے کر لیا جاتا ہے۔

وزارت داخلہ میں موجود ایک اہم ذریعے نے بتایا کہ اس پورے معاملے کی اوپر سے نگرانی کی جا رہی تھی اور سب کچھ ”سکرپٹ“ کے مطابق ہوا۔

ذریعے نے بتایا کہ پولیس کی فوری کارروائی کے بعد ضمانت نہ ہونا اور جیل بھجوایا جانا بھی پہلے سے طے کیا جا چکا تھا کیونکہ مجسٹریٹ وزارت داخلہ کے ماتحت انتظامی افسر ہے۔

وزارت داخلہ کی ہدایات ملنے کے بعد ہی ڈپٹی کمشنر نے عرفان صدیقی کی پیشی کے موقع پر پولیس کے ذریعے جوڈیشل کمپلیکس کے گیٹ بند کرائے اور صحافیوں کو عدالت جانے سے روکا۔

ایک پولیس افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایسے کیسز میں پہلے تو مقدمہ ہی درج نہیں کیا جاتا اور شخصی ضمانت پر تنبیہ کی جاتی ہے اور اگر کسی کا ضمانتی نہ ہو تو اگلے دن عدالت میں پراپرٹی کی شوریٹی رکھوا کر رہا کر دیا جاتا ہے۔

حکومت میں موجود ایک شخصیت کا دعوی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو عرفان صدیقی کے نواز شریف کے لیے ثالثی رابطوں کے بارے میں خبردار کیا گیا جس کے بعد وزارت داخلہ میں اس گرفتاری کی منصوبہ بندی کی گئی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close