سات سال سے مفرور محسن وڑائچ کون ہے؟

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سنہ 2011 میں لیے گئے ازخود نوٹس میں تاحال گرفتار نہ کیے جانے والے محسن حبیب وڑائچ کو حراست میں لینے کے لیے ایک بار پھر حکم جاری کیا ہے۔

خیال رہے کہ این آئی سی ایل سکینڈل میں ملوث ملزم محسن وڑائچ کے ساتھی ملزم مونس الہی کیس سے بری جبکہ سابق وفاقی وزیر مخدوم امین فہیم انتقال کر گئے ہیں۔

سپریم کورٹ نے نومبر 2013 میں نیشنل انشورنس کمپنی  (این آئی سی ایل) میں زمین کی خریداری کے مقدمے میں قومی احتساب بیورو کے چیئرمین چوہدری قمر زمان اور دیگر اعلیٰ عہدوں پر فائز سرکاری افسران کے علاوہ سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیریئنز کے صدر کے خلاف نیب آرڈیننس کے تحت کارروائی کا حکم دیا تھا۔

22 نومبر 2013 کو سنائے گئے فیصلے میں عدالت کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں ان افراد نے نہ صرف اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے بلکہ سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان بھی پہنچایا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے این آئی سی ایل سکینڈل پر سنہ 2011 میں ازخود نوٹس لیا تھا۔

این آئی سی ایل کے فنڈز سے مختلف علاقوں میں سرمایہ کاری کی گئی اور الزام تھا کہ وفاقی وزیر مخدوم امین فہیم نے قواعد سے ہٹ کر ایاز خان نیازی کو ادارے کا چیئرمین لگایا۔

ایاز خان نیازی نے دیگر کے ساتھ مل کر سستی زمین مہنگے داموں خرید کر ادارے کو نقصان پہنچایا۔

اس مقدمے میں مونس الہی اور وفاقی وزیر حبیب وڑائچ کے بیٹے محسن حبیب وڑائچ کے خلاف بھی کارروائی کا حکم دیا گیا تھا۔

مونس الہی اس مقدمے میں سات ماہ قید رہے۔ ان کے والد پرویز الہی نے پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کرکے کابینہ میں سینیئر وزیر کا عہدہ لیا۔

اکتوبر سنہ 2012 میں مونس الہی کو لاہور کی بنکنگ عدالت نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا۔

نومبر 2013 کے فیصلے میں سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ نیب کے موجودہ چیئرمین چوہدری قمر زمان جب ایڈیشنل سیکرٹری تجارت تھے تب انہوں نے دیگر افراد کے ساتھ مل کر قواعد و ضوابط سے ہٹ کر ایاز خان نیازی کی بحثیت چیئرمین این آئی سی ایل کی تقرری کی منظوری دی تھی۔ اس کے علاوہ اُنہوں نے سیکرٹری داخلہ کی حثیت سے بھی اس مقدمے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔

عدالت نے آئی آئی سی ایل کے چیئرمین ایاز نیازی کی تقرری کے بارے میں کہا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ محسن وڑائچ اور امین قاسم کو وطن واپس لانے کا حکم دیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close