چوری پر 14 سال سزا کم ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عظمت سعید نے کہا ہے کہ قومی وسائل کی چوری پر زیادہ سخت سزائیں ہونا چاہئیں۔


سپریم کورٹ نے گیس چوری میں ملوث ضلع لکی مروت کے رہائشی عالمگیر خان کی ضمانت کی درخواست خارج کر دی۔

قائمقام چیف جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ گیس چوروں کو ضمانت نہیں دے سکتے۔ کہا کہ ”گیس چوری کے ملزم پرعائد جرم ثابت ہوگیا تو اس پرچودہ سال قید کی سزا بنتی، میرے حساب سے یہ سزا بہت کم ہے۔“

جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے لکی مروت کےعالمگیر خان کی درخواست ضمانت پرسماعت کی۔

ملزم کے وکیل نے دلائل دیے کہ لکی مروت میں اٹھارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، اتنی لوڈشیڈنگ میں جنریٹر رکھنا سب کی مجبوری ہے، میرے موکل کے گھر پر چھاپہ مارا گیا اور وہاں سے جنریٹر برآمد ہوا، گھریلو استعمال کے جنریٹر پرمقدمہ نہیں بنتا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ملزم چوری کی گیس سے بجلی بنا کر فروخت کرتا تھا، متعلقہ محکمہ پوچھنے آئے تو پستول تان لیتا تھا۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ ملزم پورے محلے کو بجلی فروخت کرتا تھا۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ ملزم پرعائد جرم ثابت ہوگیا تو اس پرچودہ سال قید کی سزا بنتی ہے، گیس چوروں کیلئے یہ سزا کم ہے۔

عدالت نے درخواست ضمانت خارج کر دی۔ لکی مروت کے عالمگیر خان کے خلاف رواں سال مارچ میں گیس چوری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close