بلاول کی جنرل فیض سے توقعات

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ان کو ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ سے توقع ہے کہ وہ اپنے ادارے کو سیاست سے دور رکھیں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ ووٹنگ میں کھلے عام دھاندلی ہوئی، پی پی پی کے تمام سینیٹرز نے استعفیٰ دے دیے ہیں لیکن ہم نے اب تک کسی کا استعفی قبول نہیں کیا بلکہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی ہے، جب تک تحقیقات کا عمل مکمل نہیں ہوجاتا میں کسی پر شک نہیں کرسکتا، پی پی پی سینیٹر کو دھمکیاں بھی دی گئیں جبکہ جہانگیر ترین اور گورنر پنجاب چوہدری سرور نے بھی رابطہ کیا تھا۔

حاصل بزنجو کے جنرل فیض پر الزامات کے بعد ان پر غداری کے مقدمے کے سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ قانون کو توڑنے والوں اور غیر جمہوری طاقتوں کو عدالتی مدد دینے والوں پر سنگین غداری کا آرٹیکل 6 لگتا ہے۔ ’ یہ آرٹیکل صرف ان لوگوں پر لاگو ہوتا جو آئین کو توڑیں۔‘

بلاول کا کہنا تھا کہ چیرمین سینیٹ کے خلاف ووٹنگ میں جنرل فیض کی مداخلت کی ان کے پاس کوئی خبر نہیں آئی لیکن غیر جمہوری قوتیں اس معاملے میں ملوث تھیں۔ 

’ماضی میں آئی ایس آئی سیاست میں اور دھاندلی کے لیے استعمال ہوئی ہے، اب وہ چیزیں نہیں ہونی چاہئیں۔‘

انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض سے بڑی توقعات ہیں کہ اپنے ادارے کو سیاست سے الگ رکھیں گے، متنازع نہیں بننے دیں گے، اور حکومت کے ہاتھوں اپنے ادارے کو استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close